گیا تو حسن نہ دیوار میں نہ در میں تھا

ابو المجاہد زاہد

گیا تو حسن نہ دیوار میں نہ در میں تھا

ابو المجاہد زاہد

MORE BYابو المجاہد زاہد

    گیا تو حسن نہ دیوار میں نہ در میں تھا

    وہ ایک شخص جو مہمان میرے گھر میں تھا

    نجات دھوپ سے ملتی تو کس طرح ملتی

    مرا سفر تو میاں دشت بے شجر میں تھا

    غم زمانہ کی ناگن نے ڈس لیا سب کو

    وہی بچا جو تری زلف کے اثر میں تھا

    کھلی جو آنکھ تو افسون خواب ٹوٹ گیا

    ابھی ابھی کوئی چہرہ مری نظر میں تھا

    نہ آئی گھر میں کبھی اک کرن بھی سورج کی

    اگرچہ میرا مکاں وادیٔ سحر میں تھا

    ملا نہ گھر سے نکل کر بھی چین اے زاہدؔ

    کھلی فضا میں وہی زہر تھا جو گھر میں تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY