گھوم رہا تھا ایک شخص رات کے خارزار میں

عادل منصوری

گھوم رہا تھا ایک شخص رات کے خارزار میں

عادل منصوری

MORE BYعادل منصوری

    گھوم رہا تھا ایک شخص رات کے خارزار میں

    اس کا لہو بھی مر گیا صبح کے انتظار میں

    روح کی خشک پتیاں شاخ سے ٹوٹتی رہیں

    اور گھٹا برس گئی جسم کے ریگزار میں

    رنگ میں رنگ گھل گئے عکس کے شیشے دھل گئے

    قوس قزح پگھل گئی بھیگی ہوئی لگار میں

    ٹھنڈی سڑک تھی بے خبر گرم دنوں کے قہر سے

    دھوپ کو جھیلتے رہے پیڑ کھڑے قطار میں

    بہتی ہوا کی موج میں تیر رہے تھے سبز گھر

    شہر عجیب سا لگا رات چڑھے خمار میں

    نیند بھی جاگتی رہی پورے ہوئے نہ خواب بھی

    صبح ہوئی زمین پر رات ڈھلی مزار میں

    دیتا جواب کیا کوئی میرے سوا نہ تھا کوئی

    ڈوب کے رہ گئی صدا تنگ سیاہ غار میں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    گھوم رہا تھا ایک شخص رات کے خارزار میں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY