گل پیرہن رہے کہ دریدہ قبا رہے

جمیل ملک

گل پیرہن رہے کہ دریدہ قبا رہے

جمیل ملک

MORE BYجمیل ملک

    گل پیرہن رہے کہ دریدہ قبا رہے

    جس حال میں رہے ترا نقش بقا رہے

    ہم تو تمام عمر تری ہی ادا رہے

    یہ کیا ہوا کہ پھر بھی ہمیں بے وفا رہے

    چاہی جو تو نے بات وہی بات ہم نے کی

    تیری زباں بنے ترے دل کی صدا رہے

    تو ساتھ ساتھ تھا تو خدائی بھی ساتھ تھی

    اپنی رفاقتوں کے نشاں جا بجا رہے

    تجھ کو بھلا کے بھی نہ تجھے ہم بھلا سکے

    نا آشنا وہ تھے کہ جہاں آشنا رہے

    سب دیکھتے تھے پھر بھی کوئی دیکھتا نہ تھا

    سب کے لیے رسا تھے مگر نارسا رہے

    لب پر ہو شکوہ ریز تبسم بجھا ہوا

    دل میں مگر کسی کی محبت سوا رہے

    تصویر کی طرح تری صورت ہو رو بہ رو

    تصویر بن کے کوئی تجھے دیکھتا رہے

    دل تنگ ہو تو وسعت عالم بھی تنگ تر

    دنیا بہت کھلی ہے اگر دل میں جا رہے

    لگتے ہی آنکھ رات کے ہنگامے سو گئے

    جاگے تھے جتنی دیر قیامت بپا رہے

    پھولوں نے جا کے سیج سجائی تمام رات

    کانٹے چمن کے سب مرے دامن میں آ رہے

    یہ جشن نا خدا ہے کہ موجوں کا رقص ہے

    کشتی ہو غرق آب مگر نا خدا رہے

    کہنے کو ایک لفظ مرے پاس ہے جمیلؔ

    جب لے اڑے وہ بات مرے پاس کیا رہے

    مأخذ :
    • کتاب : naquush (Pg. 253)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY