گلاب تھا نہ کنول پھر بدن وہ کیسا تھا

عنبر بہرائچی

گلاب تھا نہ کنول پھر بدن وہ کیسا تھا

عنبر بہرائچی

MORE BY عنبر بہرائچی

    گلاب تھا نہ کنول پھر بدن وہ کیسا تھا

    کہ جس کا لمس بہاروں میں رنگ بھرتا تھا

    جہاں پہ سادہ دلی کے مکیں تھے کچھ پیکر

    وہ جھونپڑا تھا مگر پر شکوہ کتنا تھا

    مشام جاں سے گزرتی رہی ہے تازہ ہوا

    ترا خیال کھلے آسمان جیسا تھا

    اسی کے ہاتھ میں تمغے ہیں کل جو میداں میں

    ہماری چھاؤں میں اپنا بچاؤ کرتا تھا

    یہ سچ ہے رنگ بدلتا تھا وہ ہر اک لمحہ

    مگر وہی تو بہت کامیاب چہرا تھا

    ہر اک ندی سے کڑی پیاس لے کے وہ گزرا

    یہ اور بات کہ وہ خود بھی ایک دریا تھا

    وہ ایک جست میں نظروں سے دور تھا عنبرؔ

    خلا میں صرف سنہرا غبار پھیلا تھا

    مآخذ:

    • Book : doob (Pg. 21)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY