ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی

کیفی اعظمی

ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی

کیفی اعظمی

MORE BY کیفی اعظمی

    ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی

    میرا چھپر اٹھا گیا کوئی

    لگ گیا اک مشین میں میں بھی

    شہر میں لے کے آ گیا کوئی

    میں کھڑا تھا کہ پیٹھ پر میری

    اشتہار اک لگا گیا کوئی

    یہ صدی دھوپ کو ترستی ہے

    جیسے سورج کو کھا گیا کوئی

    ایسی مہنگائی ہے کہ چہرہ بھی

    بیچ کے اپنا کھا گیا کوئی

    اب وہ ارمان ہیں نہ وہ سپنے

    سب کبوتر اڑا گیا کوئی

    وہ گئے جب سے ایسا لگتا ہے

    چھوٹا موٹا خدا گیا کوئی

    میرا بچپن بھی ساتھ لے آیا

    گاؤں سے جب بھی آ گیا کوئی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کیفی اعظمی

    کیفی اعظمی

    نعمان شوق

    ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY