ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں

ساغر صدیقی

ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں

ساغر صدیقی

MORE BY ساغر صدیقی

    ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں

    میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں

    میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہے

    میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں

    میں نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو

    ہم سے کہتے ہیں وہی عہد وفا یاد نہیں

    کیسے بھر آئیں سر شام کسی کی آنکھیں

    کیسے تھرائی چراغوں کی ضیا یاد نہیں

    صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے

    کب ہوا کون ہوا کس سے خفا یاد نہیں

    زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

    آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں

    لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    حسین بخش

    حسین بخش

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY