ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

میر تقی میر

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

میر تقی میر

MORE BYمیر تقی میر

    ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

    ہم نے بھی طبع آزمائی کی

    اس کے ایفائے عہد تک نہ جیے

    عمر نے ہم سے بے وفائی کی

    وصل کے دن کی آرزو ہی رہی

    شب نہ آخر ہوئی جدائی کی

    اسی تقریب اس گلی میں رہے

    منتیں ہیں شکستہ پائی کی

    دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر

    آہ نے آہ نارسائی کی

    کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس

    ہم نے دیدار کی گدائی کی

    زور و زر کچھ نہ تھا تو بار میرؔ

    کس بھروسے پر آشنائی کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY