ہیں جانے بوجھے یار ہم، ہم ساتھ انجانی نہ کر

مرزا اظفری

ہیں جانے بوجھے یار ہم، ہم ساتھ انجانی نہ کر

مرزا اظفری

MORE BYمرزا اظفری

    ہیں جانے بوجھے یار ہم، ہم ساتھ انجانی نہ کر

    در سے ہمیں درکار نا جانی یہ نادانی نہ کر

    اک دل تھا جو تجھ کو دیا ہے اور دل جو اور لے

    ہم چاہیں تجھ چھٹ اور کو یہ بات دیوانی نہ کر

    عرش الہ العالمیں جائے ادب ہے کھول جھڑ

    ہے خانۂ دل غرق پر دیکھ اشک طغیانی نہ کر

    ہیں جھونپڑیاں ہمسائے میں مت آگ ان کو لگ اٹھے

    نچلی تو رہ سینے میں ٹک، ٹک آہ جولانی نہ کر

    ہم عشق تیرے ہاتھ سے کیا کیا نہ دیکھیں حالتیں

    دیکھ آب دیدہ خوں نہ ہو خون جگر پانی نہ کر

    آنسو کے ہے دریا پہ آ دل کا سفینہ تر رہا

    اب اظفریؔ مت آہ بھر کشتی یہ طوفانی نہ کر

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY