ہم آندھیوں کے بن میں کسی کارواں کے تھے

جون ایلیا

ہم آندھیوں کے بن میں کسی کارواں کے تھے

جون ایلیا

MORE BY جون ایلیا

    INTERESTING FACT

    پاکستان سے اپنے آبائی شہر امروہہ میں جب جون ایلیا آئے تو بڑا جذباتی منظر تھا ۔۔

    ہم آندھیوں کے بن میں کسی کارواں کے تھے

    جانے کہاں سے آئے ہیں جانے کہاں کے تھے

    اے جان داستاں تجھے آیا کبھی خیال

    وہ لوگ کیا ہوئے جو تری داستاں کے تھے

    ہم تیرے آستاں پہ یہ کہنے کو آئے ہیں

    وہ خاک ہو گئے جو ترے آستاں کے تھے

    مل کر تپاک سے نہ ہمیں کیجیے اداس

    خاطر نہ کیجیے کبھی ہم بھی یہاں کے تھے

    کیا پوچھتے ہو نام و نشان مسافراں

    ہندوستاں میں آئے ہیں ہندوستاں کے تھے

    اب خاک اڑ رہی ہے یہاں انتظار کی

    اے دل یہ بام و در کسی جان جہاں کے تھے

    ہم کس کو دیں بھلا در و دیوار کا حساب

    یہ ہم جو ہیں زمیں کے نہ تھے آسماں کے تھے

    ہم سے چھنا ہے ناف پیالہ ترا میاں

    گویا ازل سے ہم صف لب تشنگاں کے تھے

    ہم کو حقیقتوں نے کیا ہے خراب و خوار

    ہم خواب خواب اور گمان گماں کے تھے

    صد یاد یاد جونؔ وہ ہنگام دل کہ جب

    ہم ایک گام کے نہ تھے پر ہفت خواں کے تھے

    وہ رشتہ ہائے ذات جو برباد ہو گئے

    میرے گماں کے تھے کہ تمہارے گماں کے تھے

    مآخذ:

    • Book : yani (Pg. 115)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY