ہم آپ قیامت سے گزر کیوں نہیں جاتے

محبوب خزاں

ہم آپ قیامت سے گزر کیوں نہیں جاتے

محبوب خزاں

MORE BY محبوب خزاں

    ہم آپ قیامت سے گزر کیوں نہیں جاتے

    جینے کی شکایت ہے تو مر کیوں نہیں جاتے

    کتراتے ہیں بل کھاتے ہیں گھبراتے ہیں کیوں لوگ

    سردی ہے تو پانی میں اتر کیوں نہیں جاتے

    آنکھوں میں نمک ہے تو نظر کیوں نہیں آتا

    پلکوں پہ گہر ہیں تو بکھر کیوں نہیں جاتے

    اخبار میں روزانہ وہی شور ہے یعنی

    اپنے سے یہ حالات سنور کیوں نہیں جاتے

    یہ بات ابھی مجھ کو بھی معلوم نہیں ہے

    پتھر ادھر آتے ہیں ادھر کیوں نہیں جاتے

    تیری ہی طرح اب یہ ترے ہجر کے دن بھی

    جاتے نظر آتے ہیں مگر کیوں نہیں جاتے

    اب یاد کبھی آئے تو آئینے سے پوچھو

    محبوبؔ خزاں شام کو گھر کیوں نہیں جاتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites