ہم اگر رد عمل اپنا دکھانے لگ جائیں

رؤف خیر

ہم اگر رد عمل اپنا دکھانے لگ جائیں

رؤف خیر

MORE BY رؤف خیر

    ہم اگر رد عمل اپنا دکھانے لگ جائیں

    ہر گھمنڈی کے یہاں ہوش ٹھکانے لگ جائیں

    خاکساروں سے کہو ہوش میں آنے لگ جائیں

    اس سے پہلے کہ وہ نظروں سے گرانے لگ جائیں

    دیکھنا ہم کہیں پھولے نہ سمانے لگ جائیں

    عندیہ جیسے ہی کچھ کچھ ترا پانے لگ جائیں

    پھول چہرے یہ سر راہ ستارہ آنکھیں

    شام ہوتے ہی ترا نام سجھانے لگ جائیں

    اپنی اوقات میں رہنا دل خوش فہم ذرا

    وہ گزارش پہ تری سر نہ کجھانے لگ جائیں

    ہڈیاں باپ کی گودے سے ہوئی ہیں خالی

    کم سے کم اب تو یہ بیٹے بھی کمانے لگ جائیں

    ایک بل سے کہیں دو بار ڈسا ہے مومن

    زخم خوردہ ہیں تو پھر زخم نہ کھانے لگ جائیں

    دعوئ خوش سخنی خیرؔ ابھی زیب نہیں

    چند غزلوں ہی پہ بغلیں نہ بجانے لگ جائیں

    RECITATIONS

    رؤف خیر

    رؤف خیر

    رؤف خیر

    ہم اگر رد عمل اپنا دکھانے لگ جائیں رؤف خیر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY