ہم اہل آرزو پہ عجب وقت آ پڑا

حبیب حیدرآبادی

ہم اہل آرزو پہ عجب وقت آ پڑا

حبیب حیدرآبادی

MORE BYحبیب حیدرآبادی

    ہم اہل آرزو پہ عجب وقت آ پڑا

    ہر ہر قدم پہ کھیل نیا کھیلنا پڑا

    اپنا ہی شہر ہم کو بڑا اجنبی لگا

    اپنے ہی گھر کا ہم کو پتہ پوچھنا پڑا

    انسان کی بلندی و پستی کو دیکھ کر

    انساں کہاں کھڑا ہے ہمیں سوچنا پڑا

    مانا کہ ہے فرار مگر دل کو کیا کریں

    ماضی کی یاد ہی میں ہمیں ڈوبنا پڑا

    مجبوریاں حیات کی جب حد سے بڑھ گئیں

    ہر آرزو کو پاؤں تلے روندنا پڑا

    آگے نکل گئے تھے ذرا اپنے آپ سے

    ہم کو حبیبؔ خود کی طرف لوٹنا پڑا

    مآخذ:

    • کتاب : Shora-e-London (Pg. 74)
    • Author : Johar Zahiri
    • مطبع : Books From India (U.K) Ltd. 45, Museum Street, Londan W.C-1 (1985)
    • اشاعت : 1985

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY