ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں

افتخار عارف

ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں

افتخار عارف

MORE BYافتخار عارف

    ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں

    دلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں

    مبادا مندمل زخموں کی صورت بھول ہی جائیں

    ابھی کچھ دن یہ گھر برباد رکھنا چاہتے ہیں

    بہت رونق تھی ان کے دم قدم سے شہر جاں میں

    وہی رونق ہم ان کے بعد رکھنا چاہتے ہیں

    بہت مشکل زمانوں میں بھی ہم اہل محبت

    وفا پر عشق کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں

    سروں میں ایک ہی سودا کہ لو دینے لگے خاک

    امیدیں حسب استعداد رکھنا چاہتے ہیں

    کہیں ایسا نہ ہو حرف دعا مفہوم کھو دے

    دعا کو صورت فریاد رکھنا چاہتے ہیں

    قلم آلودۂ نان و نمک رہتا ہے پھر بھی

    جہاں تک ہو سکے آزاد رکھنا چاہتے ہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY