ہم اپنی پشت پر کھلی بہار لے کے چل دیے

یعقوب یاور

ہم اپنی پشت پر کھلی بہار لے کے چل دیے

یعقوب یاور

MORE BY یعقوب یاور

    ہم اپنی پشت پر کھلی بہار لے کے چل دیے

    سفر میں تھے سفر کا اعتبار لے کے چل دیے

    سڑک سڑک مہک رہے تھے گل بدن سجے ہوئے

    تھکے بدن اک اک گلے کا ہار لے کے چل دیے

    جبلتوں کا خون کھولنے لگا زمین پر

    تو عہد ارتقا خلا کے پار لے کے چل دیے

    پہاڑ جیسی عظمتوں کا داخلہ تھا شہر میں

    کہ لوگ آگہی کا اشتہار لے کے چل دیے

    جراحتیں ملیں ہمیں بھی انکسار کے عوض

    جھکا کے سر صداقتوں کی ہار لے کے چل دیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY