ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے

معراج فیض آبادی

ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے

معراج فیض آبادی

MORE BY معراج فیض آبادی

    ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے

    تیری یادوں کو بھی رسوا نہیں ہونے دیتے

    کچھ تو ہم خود بھی نہیں چاہتے شہرت اپنی

    اور کچھ لوگ بھی ایسا نہیں ہونے دیتے

    عظمتیں اپنے چراغوں کی بچانے کے لیے

    ہم کسی گھر میں اجالا نہیں ہونے دیتے

    آج بھی گاؤں میں کچھ کچے مکانوں والے

    گھر میں ہمسائے کے فاقہ نہیں ہونے دیتے

    ذکر کرتے ہیں ترا نام نہیں لیتے ہیں

    ہم سمندر کو جزیرہ نہیں ہونے دیتے

    مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ

    میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY