ہم نے کسی کی یاد میں اکثر شراب پی

فاضل جمیلی

ہم نے کسی کی یاد میں اکثر شراب پی

فاضل جمیلی

MORE BY فاضل جمیلی

    ہم نے کسی کی یاد میں اکثر شراب پی

    پی کر غزل کہی تو مکرر شراب پی

    یادوں کا اک ہجوم تھا تنہا نہیں تھا میں

    ساحل کی چاندنی میں سمندر شراب پی

    مدت کے بعد آج میں آفس نہیں گیا

    خود اپنے ساتھ بیٹھ کے دن بھر شراب پی

    اس کاک ٹیل کا تو نشہ ہی کچھ اور ہے

    غم کو خوشی کے ساتھ ملا کر شراب پی

    ویسے تو ہم نے پی ہی نہیں تھی کبھی شراب

    پینے لگے تو وجد میں آ کر شراب پی

    اب کون جا کے صاحب منبر سے یہ کہے

    کیوں خون پی رہا ہے ستم گر شراب پی

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY