ہم تو قصوروار ہوئے آنکھ ڈال کے

جلیل مانک پوری

ہم تو قصوروار ہوئے آنکھ ڈال کے

جلیل مانک پوری

MORE BYجلیل مانک پوری

    ہم تو قصوروار ہوئے آنکھ ڈال کے

    پوچھو کہ نکلے کیوں تھے وہ جوبن نکال کے

    آنکھوں سے خواب کا ہو گزر کیا مجال ہے

    پہرے بٹھا دیے ہیں کسی کے خیال کے

    دل میں وہ بھیڑ ہے کہ ذرا بھی نہیں جگہ

    آپ آئیے مگر کوئی ارماں نکال کے

    صد شکر وصف قد پہ وہ اتنا تو پھول اٹھے

    مضموں بلند ہیں مرے عالی خیال کے

    لذت یہی کھٹک کی جو ہے راہ عشق میں

    رکھ لوں گا دل میں پاؤں کے کانٹے نکال کے

    دل رہ گیا الجھ کے نگاہوں کے تار میں

    اچھا وہ جان ڈال گئے آنکھ ڈال کے

    سنیے تو اک ذرا مرے اشعار دردناک

    لایا ہوں میں کلیجے کے ٹکڑے نکال کے

    آئینہ ہے جو ان کا مصاحب تو کیا ہوا

    ہم بھی کبھی تھے دیکھنے والے جمال کے

    لکھی ہے کھا کے خون جگر یہ غزل جلیلؔ

    مصرع نہیں ہیں شعر کے ٹکڑے ہیں لال کے

    مآخذ:

    • کتاب : Kainat-e-Jalil Manakpuri (Pg. 95)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY