ہمارے بس میں کیا ہے اور ہمارے بس میں کیا نہیں

حماد نیازی

ہمارے بس میں کیا ہے اور ہمارے بس میں کیا نہیں

حماد نیازی

MORE BY حماد نیازی

    ہمارے بس میں کیا ہے اور ہمارے بس میں کیا نہیں

    جہان ہست و بود میں کسی پہ کچھ کھلا نہیں

    حضور خواب دیر تک کھڑا رہا سویر تک

    نشیب قلب و چشم سے گزر ترا ہوا نہیں

    نظر میں اک چراغ تھا بدن میں ایک باغ تھا

    چراغ و باغ ہو چکے کوئی رہا رہا نہیں

    اجڑ گئیں حویلیاں چلی گئیں سہیلیاں

    دلا تری قبیل سے کوئی بھی اب بچا نہیں

    ہوس کی رزم گاہ میں بدن کی کار گاہ میں

    وہ شور تھا کہ دور تک کسی نے کچھ سنا نہیں

    نہ جانے کتنے یگ ڈھلے نہ جانے کتنے دکھ پلے

    گھروں میں ہانڈیوں تلے کسی کو کچھ پتہ نہیں

    وہ پیڑ جس کی چھاؤں میں کٹی تھی عمر گاؤں میں

    میں چوم چوم تھک گیا مگر یہ دل بھرا نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY