ہر چند جاگتے ہیں پہ سوئے ہوئے سے ہیں

محمد علوی

ہر چند جاگتے ہیں پہ سوئے ہوئے سے ہیں

محمد علوی

MORE BY محمد علوی

    ہر چند جاگتے ہیں پہ سوئے ہوئے سے ہیں

    سب اپنے اپنے خوابوں میں کھوئے ہوئے سے ہیں

    میں شام کے حصار میں جکڑا ہوا سا ہوں

    منظر مرے لہو میں ڈبوئے ہوئے سے ہیں

    محسوس ہو رہا ہے یہ پھولوں کو دیکھ کر

    جیسے تمام رات کے روئے ہوئے سے ہیں

    اک ڈور ہی ہے دن کی مہینوں کی سال کی

    اس میں کہیں پہ ہم بھی پروئے ہوئے سے ہیں

    علویؔ یہ معجزہ ہے دسمبر کی دھوپ کا

    سارے مکان شہر کے دھوئے ہوئے سے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY