ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے

ندا فاضلی

ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے

ندا فاضلی

MORE BY ندا فاضلی

    ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے

    کبھی تو حوصلہ کر کے نہیں کہا جائے

    تمہارا گھر بھی اسی شہر کے حصار میں ہے

    لگی ہے آگ کہاں کیوں پتہ کیا جائے

    جدا ہے ہیر سے رانجھا کئی زمانوں سے

    نئے سرے سے کہانی کو پھر لکھا جائے

    کہا گیا ہے ستاروں کو چھونا مشکل ہے

    یہ کتنا سچ ہے کبھی تجربہ کیا جائے

    کتابیں یوں تو بہت سی ہیں میرے بارے میں

    کبھی اکیلے میں خود کو بھی پڑھ لیا جائے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY