ہر ایک راستے کا ہم سفر رہا ہوں میں

فارغ بخاری

ہر ایک راستے کا ہم سفر رہا ہوں میں

فارغ بخاری

MORE BY فارغ بخاری

    ہر ایک راستے کا ہم سفر رہا ہوں میں

    تمام عمر ہی آشفتہ سر رہا ہوں میں

    قدم قدم پہ وہاں قربتیں تھیں اور یہاں

    ہجوم شہر سے تنہا گزر رہا ہوں میں

    پکارا جب مجھے تنہائی نے تو یاد آیا

    کہ اپنے ساتھ بہت مختصر رہا ہوں میں

    یہ کیسی رفعتیں آئینۂ نگاہ میں ہیں

    کسی ستارے پہ جیسے اتر رہا ہوں میں

    میں روشنی ہی کی وحدانیت کا قائل ہوں

    محبتوں ہی کا پیغام بر رہا ہوں میں

    میں شب پرست نہیں ہوں یہی خطا ہے مری

    ادا شناس جمال سحر رہا ہوں میں

    یہاں بس ایک نیا تجربہ ہوا فارغؔ

    کہ لمحے لمحے کو محسوس کر رہا ہوں میں

    مآخذ:

    • Book : siip-volume-47 (Pg. 227)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY