ہر ایک سمت جب اس کو پکارنا ٹھہرا
ہر ایک سمت جب اس کو پکارنا ٹھہرا
وہ پھر مری رگ جاں سے قریب کیا ٹھہرا
فریب خوردہ نظر کو فریب دوں کب تک
وہ ایک ابر تھا کیا آیا اور کیا ٹھہرا
جدھر سے جائیے رستے ادھر ہی جاتے تھے
مگر وہاں سے نکلنا تو معجزہ ٹھہرا
وہ سیل تھا کہ مسافر عدم کی راہ گئے
جہاز دور مگر خشکیوں پہ جا ٹھہرا
جو دن کو ہاتھ نہ آیا سراب کی صورت
وہ شب سمیت مرے کنج غم میں آ ٹھہرا
متاع جاں ہے جو اس ایک خواب کا حاصل
سلگتی آنکھ میں نیزے کا ذائقہ ٹھہرا
اب اس کے شہر پہ شاہینؔ ہر سفر ہے تمام
عجیب ہم سفری کا معاملہ ٹھہرا
- کتاب : Be-nishaan (Pg. 197)
- Author : wali aalam Shahiin
- مطبع : Dabistan-e-jadeed (1984)
- اشاعت : 1984
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.