ہر گام بدلتے رہے منظر مرے آگے

کاشف حسین غائر

ہر گام بدلتے رہے منظر مرے آگے

کاشف حسین غائر

MORE BY کاشف حسین غائر

    ہر گام بدلتے رہے منظر مرے آگے

    چلتا ہی رہا کوئی برابر مرے آگے

    کیا خاک مری خاک میں امکان ہو پیدا

    ناپید ہیں موجود و میسر مرے آگے

    یوں دیکھنے والوں کو نظر آتا ہوں پیچھے

    رہتا ہے مسافت میں مرا گھر مرے آگے

    رکھتی ہے عجب پاس مری تشنہ لبی کا

    سو موج اٹھاتی ہی نہیں سر مرے آگے

    ہنستا ہی رہا میں در و دیوار پہ اپنے

    روتا ہی رہا میرا مقدر مرے آگے

    کل رات جگاتی رہی اک خواب کی دوری

    اور نیند بچھاتی رہی بستر مرے آگے

    واقف ہی نہیں کوئی ان آنکھوں کی روش سے

    کم کم جو کھلا کرتی ہیں اکثر مرے آگے

    دیکھے ہی نہیں میں نے کبھی آنکھ میں آنسو

    پہنا ہی نہیں اس نے یہ زیور مرے آگے

    غائرؔ میں کئی روز سے خاموش ہوں ایسا

    گویا نظر آتے ہیں یہ پتھر مرے آگے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY