ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے

فراق گورکھپوری

ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے

فراق گورکھپوری

MORE BYفراق گورکھپوری

    ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے

    ہر نغمہ سر بزم طرب اور ہی کچھ ہے

    ارباب وفا جان بھی دینے کو ہیں تیار

    ہستی کا مگر حسن طلب اور ہی کچھ ہے

    یہ کام نہ لے نالہ و فریاد و فغاں سے

    افلاک الٹ دینے کا ڈھب اور ہی کچھ ہے

    اک سلسلۂ راز ہے جینا کہ ہو مرنا

    جب اور ہی کچھ تھا مگر اب اور ہی کچھ ہے

    کچھ مہر قیامت ہے نہ کچھ نار جہنم

    ہشیار کہ وہ قہر و غضب اور ہی کچھ ہے

    مذہب کی خرابی ہے نہ اخلاق کی پستی

    دنیا کے مصائب کا سبب اور ہی کچھ ہے

    بیہودہ سری سجدے میں ہے جان کھپانا

    آئین محبت میں ادب اور ہی کچھ ہے

    کیا حسن کے انداز تغافل کی شکایت

    پیمان وفا عشق کا جب اور ہی کچھ ہے

    دنیا کو جگا دے جو عدم کو بھی سلا دے

    سنتے ہیں کہ وہ روز وہ شب اور ہی کچھ ہے

    آنکھوں نے فراقؔ آج نہ پوچھو جو دکھایا

    جو کچھ نظر آتا ہے وہ سب اور ہی کچھ ہے

    RECITATIONS

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے خالد مبشر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY