ہر نفس میں دل کی بیتابی بڑھاتے جائیے

ماہر القادری

ہر نفس میں دل کی بیتابی بڑھاتے جائیے

ماہر القادری

MORE BY ماہر القادری

    ہر نفس میں دل کی بیتابی بڑھاتے جائیے

    دور رہ کر بھی مرے نزدیک آتے جائیے

    اک ذرا تھم تھم کے یہ پردے اٹھاتے جائیے

    دیکھنے والوں کی نظریں آزماتے جائیے

    میرے اس ظلمت کدے کو جگمگاتے جائیے

    ہو سکے تو میری خاطر مسکراتے جائیے

    پھر اسی انداز سے نظریں ملاتے جائیے

    دیکھنے والوں کی نظریں آزماتے جائیے

    یا کوئی تسکین کی صورت بتاتے جائیے

    یا پھر اپنی یاد سے غافل بناتے جائیے

    رفتہ رفتہ خود کو دیوانہ بناتے جائیے

    حسن کی دلچسپیوں کے کام آتے جائیے

    عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے

    دل یہ کہتا ہے فریب دوست کھاتے جائیے

    کفر و ایماں کے سوا بھی کچھ مناظر اور ہیں

    ان کے ہر انداز پر ایمان لاتے جائیے

    آ ہی جائے گا کوئی قسمت کا مارا قیس بھی

    ہر طرف ام رخ لیلیٰ بچھاتے جائیے

    میں نے کچھ فطرت ہی پائی ہے عجب مشکل پسند

    میری ہر مشکل کو مشکل تر بناتے جائیے

    یاد ہے ماہرؔ مجھے ان کا وہ کہنا یاد ہے

    آج تو بس رات بھر غزلیں سناتے جائیے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہر نفس میں دل کی بیتابی بڑھاتے جائیے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites