حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے

پروین شاکر

حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے

    باب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہے

    ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کی

    اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے

    اک حجاب تہہ اقرار ہے مانع ورنہ

    گل کو معلوم ہے کیا دست صبا چاہتا ہے

    ریت ہی ریت ہے اس دل میں مسافر میرے

    اور یہ صحرا ترا نقش کف پا چاہتا ہے

    یہی خاموشی کئی رنگ میں ظاہر ہوگی

    اور کچھ روز کہ وہ شوخ کھلا چاہتا ہے

    رات کو مان لیا دل نے مقدر لیکن

    رات کے ہاتھ پہ اب کوئی دیا چاہتا ہے

    تیرے پیمانے میں گردش نہیں باقی ساقی

    اور تری بزم سے اب کوئی اٹھا چاہتا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جمال احسانی

    جمال احسانی

    پروین شاکر

    پروین شاکر

    RECITATIONS

    صبیحہ خان

    صبیحہ خان

    صبیحہ خان

    حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے صبیحہ خان

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY