حرف حرف گوندھے تھے طرز مشکبو کی تھی

زہرا نگاہ

حرف حرف گوندھے تھے طرز مشکبو کی تھی

زہرا نگاہ

MORE BYزہرا نگاہ

    حرف حرف گوندھے تھے طرز مشکبو کی تھی

    تم سے بات کرنے کی کیسی آرزو کی تھی

    ساتھ ساتھ چلنے کی کس قدر تمنا تھی

    ساتھ ساتھ کھونے کی کیسی جستجو کی تھی

    وہ نہ جانے کیا سمجھا ذکر موسموں کا تھا

    میں نے جانے کیا سوچا بات رنگ و بو کی تھی

    اس ہجوم میں وہ پل کس طرح سے تنہا ہے

    جب خموش تھے ہم تم اور گفتگو کی تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY