اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں

محسن نقوی

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں

محسن نقوی

MORE BY محسن نقوی

    اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں

    کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں

    کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دل

    زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں

    موسم زرد میں اک دل کو بچاؤں کیسے

    ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

    اب کوئی کیا مرے قدموں کے نشاں ڈھونڈے گا

    تیز آندھی میں تو خیمے بھی اکھڑ جاتے ہیں

    شغل ارباب ہنر پوچھتے کیا ہو کہ یہ لوگ

    پتھروں میں بھی کبھی آئنے جڑ جاتی ہیں

    سوچ کا آئنہ دھندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ

    چاند چہروں کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں

    شدت غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی

    کچھ دیئے تند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں

    وہ بھی کیا لوگ ہیں محسنؔ جو وفا کی خاطر

    خود تراشیدہ اصولوں پہ بھی اڑ جاتے ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Beesveen Sadi Ki Behtareen Ishqiya Ghazlen (Pg. 193)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY