ہوا تو ہے ہی مخالف مجھے ڈراتا ہے کیا

خورشید طلب

ہوا تو ہے ہی مخالف مجھے ڈراتا ہے کیا

خورشید طلب

MORE BY خورشید طلب

    ہوا تو ہے ہی مخالف مجھے ڈراتا ہے کیا

    ہوا سے پوچھ کے کوئی دیئے جلاتا ہے کیا

    گہر جو ہیں تہہ دریا تو سنگ و خشت بھی ہیں

    یہ دیکھنا ہے مری دسترس میں آتا ہے کیا

    نواح جاں میں جو چلتی ہے کیسی آندھی ہے

    دیئے کی لو کی طرح مجھ میں تھرتھراتا ہے کیا

    گلے میں نام کی تختی گلاب رکھتے ہیں

    چراغ اپنا تعارف کہیں کراتا ہے کیا

    نشان قبر بھی چھوڑا نہیں رقابت نے

    کسی کو ایسے کوئی خاک میں ملاتا ہے کیا

    فنا کے بعد ہی ملتی ہے زندگی کو دوا

    طلبؔ یہ رمز تمہاری سمجھ میں آتا ہے کیا

    RECITATIONS

    خورشید طلب

    خورشید طلب

    خورشید طلب

    ہوا تو ہے ہی مخالف مجھے ڈراتا ہے کیا خورشید طلب

    مآخذ:

    • کتاب : Jahaan Gard (Pg. 52)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY