ہوائیں تیز تھیں یہ تو فقط بہانے تھے

آشفتہ چنگیزی

ہوائیں تیز تھیں یہ تو فقط بہانے تھے

آشفتہ چنگیزی

MORE BY آشفتہ چنگیزی

    ہوائیں تیز تھیں یہ تو فقط بہانے تھے

    سفینے یوں بھی کنارے پہ کب لگانے تھے

    خیال آتا ہے رہ رہ کے لوٹ جانے کا

    سفر سے پہلے ہمیں اپنے گھر جلانے تھے

    گمان تھا کہ سمجھ لیں گے موسموں کا مزاج

    کھلی جو آنکھ تو زد پہ سبھی ٹھکانے تھے

    ہمیں بھی آج ہی کرنا تھا انتظار اس کا

    اسے بھی آج ہی سب وعدے بھول جانے تھے

    تلاش جن کو ہمیشہ بزرگ کرتے رہے

    نہ جانے کون سی دنیا میں وہ خزانے تھے

    چلن تھا سب کے غموں میں شریک رہنے کا

    عجیب دن تھے عجب سرپھرے زمانے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY