ہزار خاک کے ذروں میں مل گیا ہوں میں

ہادی مچھلی شہری

ہزار خاک کے ذروں میں مل گیا ہوں میں

ہادی مچھلی شہری

MORE BY ہادی مچھلی شہری

    ہزار خاک کے ذروں میں مل گیا ہوں میں

    مآل شوق ہوں آئینہ وفا ہوں میں

    کہاں یہ وسعت جلوہ کہاں یہ دیدۂ تنگ

    کبھی تجھے کبھی اپنے کو دیکھتا ہوں میں

    شہید عشق کے جلوے کی انتہا ہی نہیں

    ہزار رنگ سے عالم میں رونما ہوں میں

    مرا وجود حقیقت مرا عدم دھوکا

    فنا کی شکل میں سرچشمۂ بقا ہوں میں

    ہے تیری آنکھ میں پنہاں مرا وجود و عدم

    نگاہ پھیر لے پھر دیکھ کیا سے کیا ہوں میں

    مرا وجود بھی تھا کوئی چیز کیا معلوم

    اس اعتبار سے پہلے ہی مٹ چکا ہوں میں

    شمار کس میں کروں نسبت حقیقی کو

    خدا نہیں ہوں مگر مظہر خدا ہوں میں

    مرا نشاں نگہ حق نگر پہ ہے موقوف

    نہ خود شناس ہوں ہادیؔ نہ خود نما ہوں میں

    مآخذ:

    • کتاب : Jadeed Shora-e-Urdu (Pg. 525)
    • Author : Dr. Abdul Wahid
    • مطبع : Feroz sons Printers Publishers and Stationers

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY