ہجر کے تپتے موسم میں بھی دل ان سے وابستہ ہے

غلام محمد قاصر

ہجر کے تپتے موسم میں بھی دل ان سے وابستہ ہے

غلام محمد قاصر

MORE BYغلام محمد قاصر

    ہجر کے تپتے موسم میں بھی دل ان سے وابستہ ہے

    اب تک یاد کا پتا پتا ڈالی سے پیوستہ ہے

    مدت گزری دور سے میں نے ایک سفینہ دیکھا تھا

    اب تک خواب میں آ کر شب بھر دریا مجھ کو ڈستا ہے

    شام ابد تک ٹکرانے کا اذن نہیں ہے دونوں کو

    چاند اسی پر گرم سفر ہے جو سورج کا رستہ ہے

    تیز نہیں گر آنچ بدن کی جم جاؤگے رستے میں

    اس بستی کو جانے والی پگڈنڈی یخ بستہ ہے

    آیا ہے اک راہ نما کے استقبال کو اک بچہ

    پیٹ ہے خالی آنکھ میں حسرت ہاتھوں میں گلدستہ ہے

    لفظوں کا بیوپار نہ آیا اس کو کسی مہنگائی میں

    کل بھی قاصرؔ کم قیمت تھا آج بھی قاصر سستا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    غلام محمد قاصر

    غلام محمد قاصر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY