ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے

ثاقب لکھنوی

ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے

ثاقب لکھنوی

MORE BY ثاقب لکھنوی

    ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے

    سننے والے رات کٹنے کی دعا دینے لگے

    آئیے حال دل مجروح سنیے دیکھیے

    کیا کہا زخموں نے کیوں ٹانکے صدا دینے لگے

    کس نظر سے آپ نے دیکھا دل مجروح کو

    زخم جو کچھ بھر چلے تھے پھر ہوا دینے لگے

    سننے والے رو دئیے سن کر مریض غم کا حال

    دیکھنے والے ترس کھا کر دعا دینے لگے

    جز زمین کوئے جاناں کچھ نہیں پیش نگاہ

    جس کا دروازہ نظر آیا صدا دینے لگے

    باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے

    جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

    مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن

    زندگی بھر کی محبت کا صلا دینے لگے

    آئنہ ہو جائے میرا عشق ان کے حسن کا

    کیا مزہ ہو درد اگر خود ہی دوا دینے لگے

    سینۂ سوزاں میں ثاقبؔ گھٹ رہا ہے وہ دھواں

    اف کروں تو آگ دنیا کی ہوا دینے لگے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    غلام علی

    غلام علی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY