ہو چکے گم سارے خد و خال منظر اور میں

زیب غوری

ہو چکے گم سارے خد و خال منظر اور میں

زیب غوری

MORE BY زیب غوری

    ہو چکے گم سارے خد و خال منظر اور میں

    پھر ہوئے ایک آسماں ساحل سمندر اور میں

    ایک حرف راز دل پر آئنہ ہوتا ہوا

    اک کہر چھائی ہوئی منظر بہ منظر اور میں

    چھیڑ کر جیسے گزر جاتی ہے دوشیزہ ہوا

    دیر سے خاموش ہے گہرا سمندر اور میں

    کس قدر اک دوسرے سے لگتے ہیں مانوس زیبؔ

    ناریل کے پیڑ یہ ساحل کے پتھر اور میں

    مآخذ:

    • کتاب : zartaab (Pg. 17)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY