ہوتا فن کار جدید اور نہ شاعر ہوتا

حیدر علی جعفری

ہوتا فن کار جدید اور نہ شاعر ہوتا

حیدر علی جعفری

MORE BY حیدر علی جعفری

    ہوتا فن کار جدید اور نہ شاعر ہوتا

    لغو بے بحر خیالات کا مظہر ہوتا

    اور بڑھ جاتی جو ابہام کی ندرت مجھ میں

    عہد نو کے کسی فرقے کا پیمبر ہوتا

    کچھ تو ملتا مجھے دشنام طرازی ہی سہی

    خوب ہوتا جو میں دشمن کے برابر ہوتا

    کاہے کو دشت میں چبھنے کے لیے رہ جاتا

    پھول ہوتا کسی گلشن کا گل تر ہوتا

    مجھ پہ بھی تیشۂ الفت کی عنایت ہوتی

    کاش کے میں بھی کسی کوہ کا پتھر ہوتا

    یوں تراشے ہیں صنم کفر کے اس دنیا نے

    بت شکن ہوتا جو اس دور میں آذرؔ ہوتا

    کھینچ دیتا میں زمانے پہ محبت کے نقوش

    میرے قبضے میں اگر خامۂ شہ پر ہوتا

    اپنی خلیق کا مفہوم سمجھ پاتا اگر

    دائرہ ہوتا جہاں اور میں محور ہوتا

    لوگ مجھ کو بھی شہید غم دوراں کہتے

    نیزۂ وقت پہ گویا جو مرا سر ہوتا

    دشت کی آب و ہوا نے دیا کانٹوں کا لباس

    میں بہاروں میں جو پلتا گل احمر ہوتا

    خون مزدور کا ملتا جو نہ تعمیروں میں

    نہ حویلی نہ محل اور نہ کوئی گھر ہوتا

    تشنہ لب کوئی بھی دنیا میں نہیں رہ پاتا

    میری آنکھوں کے جو قبضے میں سمندر ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY