ہوتے خدا کے اس بت کافر کی چاہ کی

لالہ مادھو رام جوہر

ہوتے خدا کے اس بت کافر کی چاہ کی

لالہ مادھو رام جوہر

MORE BYلالہ مادھو رام جوہر

    ہوتے خدا کے اس بت کافر کی چاہ کی

    اتنی تو بات مجھ سے ہوئی ہے گناہ کی

    سوز دروں کیا جو مرا شمع نے بیاں

    جل کر زبان کاٹ لی میرے گواہ کی

    بھرتا ہے آج خوب طرارے سمند ناز

    قمچی ہے ان کے ہاتھ میں زلف سیاہ کی

    دیکھا حضور کو جو مکدر تو مر گئے

    ہم مٹ گئے جو آپ نے میلی نگاہ کی

    فرقت میں یاد آئے جو لطف شب و صال

    اک آہ بھر کے جانب گردوں نگاہ کی

    سنسان کر دیا مرے پہلو کو لے کے دل

    ظالم نے لوٹ کر مری بستی تباہ کی

    وہ مجھ سے کہہ رہے ہیں اشاروں میں دیکھنا

    سب تاڑ جائیں گے سر محفل جو آہ کی

    ہم وہ تھے دل ہی دل میں کیا ضبط راز عشق

    صدمے اٹھا کے مر گئے منہ سے نہ آہ کی

    افسوس ہے کہ میں تو پھروں در بدر خراب

    تم کو خبر نہ ہو مرے حال تباہ کی

    جوہرؔ خدا کے فضل سے ایسی غزل کہی

    شہرت مشاعرہ میں ہوئی واہ واہ کی

    مآخذ:

    • کتاب : Intekhab Kalam Lala M.R Jauhar (Pg. 51)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY