ہوا کرے اگر اس کو کوئی گلہ ہوگا

انوار انجم

ہوا کرے اگر اس کو کوئی گلہ ہوگا

انوار انجم

MORE BYانوار انجم

    ہوا کرے اگر اس کو کوئی گلہ ہوگا

    زباں کھلی ہے تو پھر کچھ تو فیصلہ ہوگا

    کبھی کبھی تو یہ دل میں سوال اٹھتا ہے

    کہ اس جدائی میں کیا اس نے پا لیا ہوگا

    وہ گرم گرم نفس کیسے ٹھہرتے ہوں گے

    اب ان شبوں کو وہ کیسے گزارتا ہوگا

    کبھی جو گزروں ترے شہر سے تو سوچتا ہوں

    کہ اس زمین پہ کیا کیا قدم پڑا ہوگا

    خوشا وہ رونق ہنگامۂ وصال اب تو

    یقین ہی نہیں آتا کہ یوں ہوا ہوگا

    وہ کھوئی کھوئی وفاؤں کا بھولا بسرا گیت

    کبھی تو اس کے شبستاں میں بھی گیا ہوگا

    نکل پڑے تھے یوں ہی ہم تو ایک دن گھر سے

    کسے خبر تھی کہ یوں تم سے سامنا ہوگا

    کبھی اٹھے ہی نہیں ہم تلاش کو ورنہ

    کوئی تو شہر میں اپنا بھی آشنا ہوگا

    یہ ہولناک خموشی جدائی کا آشوب

    میں سوچتا ہوں کہ یوں ہی رہا تو کیا ہوگا

    کس آرزو میں اٹھے کس طرف چلے انجمؔ

    اس آدھی رات میں اب کس کا در کھلا ہوگا

    مآخذ
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 363)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY