ہوئی غزل ہی نہ کچھ بات بن سکی ہم سے

احمد عطا

ہوئی غزل ہی نہ کچھ بات بن سکی ہم سے

احمد عطا

MORE BYاحمد عطا

    ہوئی غزل ہی نہ کچھ بات بن سکی ہم سے

    یہ سرگزشت جنوں کب بیاں ہوئی ہم سے

    سڑک پہ بیٹھ گئے دیکھتے ہوئے دنیا

    اور ایسے ترک ہوئی ایک خودکشی ہم سے

    ہم آ گئے تھے گھنے برگدوں کے سائے میں

    سو بات کرنے چلی آئی روشنی ہم سے

    وہ خواب کیا تھا کہ جو بھولنے لگا دم صبح

    وہ رات کیسی تھی جو روٹھنے لگی ہم سے

    بجھا کے اپنے الاؤ پڑا ہمیں چھپنا

    تو یوں کہانی فراموش ہو گئی ہم سے

    ہم آج پھر بڑی تاب و تواں سے جلتے ہیں

    پھر آج سہم تو جائے گی تیرگی ہم سے

    ہم آج بھی اسی دروازے کی بنے تھے درز

    وہ بے نیاز اسی طرح پھر ملی ہم سے

    مأخذ :
    • کتاب : Aankh Bhar Tamasha Hai (Pg. 66)
    • Author : Ahmad Ata
    • مطبع : Sanjh Publications (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY