ہوئی اک خواب سے شادی مری تنہائی کی

فرحت احساس

ہوئی اک خواب سے شادی مری تنہائی کی

فرحت احساس

MORE BYفرحت احساس

    ہوئی اک خواب سے شادی مری تنہائی کی

    پہلی بیٹی ہے اداسی مری تنہائی کی

    ابھی معلوم نہیں کتنے ہیں ذاتی اسباب

    کتنی وجہیں ہیں سماجی مری تنہائی کی

    جا کے دیکھا تو کھلا رونق بازار کا راز

    ایک اک چیز بنی تھی مری تنہائی کی

    شہر در شہر جو یہ انجمنیں ہیں آباد

    تربیت گاہیں ہیں ساری مری تنہائی کی

    صرف آئینۂ آغوش محبت میں ملی

    ایک تنہائی جوابی مری تنہائی کی

    صاف ہے چہرۂ قاتل مری آنکھوں میں مگر

    معتبر کب ہے گواہی مری تنہائی کی

    حاصل وصل صفر ہجر کا حاصل بھی صفر

    جانے کیسی ہے ریاضی مری تنہائی کی

    کسی حالت میں بھی تنہا نہیں ہونے دیتی

    ہے یہی ایک خرابی مری تنہائی کی

    میں جو یوں پھرتا ہوں مے خانوں میں بت خانوں میں

    ہے یہی روزہ نمازی مری تنہائی کی

    فرحتؔ احساس وہ ہم زاد ہے میرا جس نے

    شہر میں دھوم مچا دی مری تنہائی کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY