حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے

مرزا غالب

حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے

    اس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے

    بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ

    جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے

    اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا

    ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے

    بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے

    وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے

    ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق

    وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

    دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض

    اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

    ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا

    جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے

    قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے

    کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے

    خضر سلطاں کو رکھے خالق اکبر سرسبز

    شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے

    ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

    دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY