اک آہ زیر لب کے گنہ گار ہو گئے

علی جواد زیدی

اک آہ زیر لب کے گنہ گار ہو گئے

علی جواد زیدی

MORE BYعلی جواد زیدی

    اک آہ زیر لب کے گنہ گار ہو گئے

    اب ہم بھی داخل صف اغیار ہو گئے

    جس درد کو سمجھتے تھے ہم ان کا فیض خاص

    اس درد کے بھی لاکھ خریدار ہو گئے

    جن حوصلوں سے میرا جنوں مطمئن نہ تھا

    وہ حوصلے زمانے کے معیار ہو گئے

    ساقی کے اک اشارے نے کیا سحر کر دیا

    ہم بھی شکار اندک و بسیار ہو گئے

    اب ان لبوں میں شہد و شکر گھل گئے تو کیا

    جب ہم ہلاک تلخی گفتار ہو گئے

    ہر وعدہ جیسے حرف غلط تھا سراب تھا

    ہم تو نثار جرأت انکار ہو گئے

    تیری نظر پیام یقیں دے گئی مگر

    کچھ تازہ وسوسے بھی تو بیدار ہو گئے

    اس مے کدے میں اچھلی ہے دستار بارہا

    واعظ یہاں کہاں سے نمودار ہو گئے

    سرسبز پتیوں کا لہو چوس چوس کر

    کتنے ہی پھول رونق گلزار ہو گئے

    زیدیؔ نے تازہ شعر سنائے برنگ خاص

    ہم بھی فدائے شوخی انکار ہو گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY