اک انوکھی رسم کو زندہ رکھا ہے

طاہر عظیم

اک انوکھی رسم کو زندہ رکھا ہے

طاہر عظیم

MORE BYطاہر عظیم

    اک انوکھی رسم کو زندہ رکھا ہے

    خون ہی نے خون کو پسپا رکھا ہے

    اب جنون خود نمائی میں تو ہم نے

    وحشتوں کا اک دریچہ وا رکھا ہے

    شہر کیسے اب حقیقت آشنا ہو

    آگہی پر ذات کا پہرہ رکھا ہے

    تیرگی کی کیا عجب ترکیب ہے یہ

    اب ہوا کے دوش پر دیوا رکھا ہے

    تم چراغوں کو بجھانے پر تلے ہو

    ہم نے سورج کو بھی اب اپنا رکھا ہے

    تم ہمارے خون کی قیمت نہ پوچھو

    اس میں اپنے ظرف کا عرصہ رکھا ہے

    شہر کی اس بھیڑ میں چل تو رہا ہوں

    ذہن میں پر گاؤں کا نقشہ رکھا ہے

    یہ عظیمؔ اپنا کمال ظرف ہے جو

    دشمنوں کے عیب پر پردہ رکھا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY