اک اپنے سلسلے میں تو اہل یقیں ہوں میں

رئیس فروغ

اک اپنے سلسلے میں تو اہل یقیں ہوں میں

رئیس فروغ

MORE BY رئیس فروغ

    اک اپنے سلسلے میں تو اہل یقیں ہوں میں

    چھ فیٹ تک ہوں اس کے علاوہ نہیں ہوں میں

    روئے زمیں پہ چار عرب میرے عکس ہیں

    ان میں سے میں بھی ایک ہوں چاہے کہیں ہوں میں

    ویسے تو میں گلوب کو پڑھتا ہوں رات دن

    سچ یہ ہے اک فلیٹ ہے جس کا مکیں ہوں میں

    ٹکرا کے بچ گیا ہوں بسوں سے کئی دفعہ

    اب کے جو حادثہ ہو تو سمجھو نہیں ہوں میں

    جانے وہ کوئی جبر ہے یا اختیار ہے

    دفتر میں تھوڑی دیر جو کرسی نشیں ہوں میں

    میری رگوں کے نیل سے معلوم کیجئے

    اپنی طرح کا ایک ہی زہر آفریں ہوں میں

    مانا مری نشست بھی اکثر دلوں میں ہے

    اینجائنا کی طرح مگر دل نشیں ہوں میں

    میرا بھی ایک باپ تھا اچھا سا ایک باپ

    وہ جس جگہ پہنچ کے مرا تھا وہیں ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY