اک دریچے کی تمنا مجھے دوبھر ہوئی ہے

سلیم صدیقی

اک دریچے کی تمنا مجھے دوبھر ہوئی ہے

سلیم صدیقی

MORE BY سلیم صدیقی

    اک دریچے کی تمنا مجھے دوبھر ہوئی ہے

    وہ گھٹن ہی مری سانسوں پہ مقرر ہوئی ہے

    آج رکھے ہیں قدم اس نے مری چوکھٹ پر

    آج دہلیز مری چھت کے برابر ہوئی ہے

    نیند نے نیند سے چونکا کے اٹھایا مجھ کو

    خواب میں خواب کی تعبیر اجاگر ہوئی ہے

    اس نے راتوں کے تقدس کو کیا ہے مجروح

    ایک مٹھی بھی جسے دھوپ میسر ہوئی ہے

    جب سے سیکھا ہے ہنر شیشہ گری کا میں نے

    بس اسی دن سے یہ دنیا ہے کہ پتھر ہوئی ہے

    اب زمینوں کو بچھائے کہ فلک کو اوڑھے

    مفلسی تو بھری برسات میں بے گھر ہوئی ہے

    ایک مدت سے جو صحرائے مسرت تھی سلیمؔ

    غم کے چھوتے ہی وہی چشم سمندر ہوئی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY