اک ہوا آئی ہے دیوار میں در کرنے کو

فرحت احساس

اک ہوا آئی ہے دیوار میں در کرنے کو

فرحت احساس

MORE BYفرحت احساس

    اک ہوا آئی ہے دیوار میں در کرنے کو

    کوئی دروازہ کھلا ہے مجھے گھر کرنے کو

    دور صحرا میں کوئی زلف سی لہرائی ہے

    کوئی بادل سا اڑا ہے مجھے تر کرنے کو

    نظر آئی ہے کسی چاند کی پرچھائیں سی

    شب ہستی میں مرے ساتھ سفر کرنے کو

    آ مجھے چھو کے ہرا رنگ بچھا دے مجھ پر

    میں بھی اک شاخ سی رکھتا ہوں شجر کرنے کو

    اے صدف سن تجھے پھر یاد دلا دیتا ہوں

    میں نے اک چیز تجھے دی تھی گہر کرنے کو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY