اک جادوگر ہے آنکھوں کی بستی میں

حمیدہ شاہین

اک جادوگر ہے آنکھوں کی بستی میں

حمیدہ شاہین

MORE BYحمیدہ شاہین

    اک جادوگر ہے آنکھوں کی بستی میں

    تارے ٹانک رہا ہے میری چنری میں

    میرے سخی نے خالی ہاتھ نہ لوٹایا

    ڈھیروں دکھ باندھے ہیں میری گٹھڑی میں

    کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو

    سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں

    جن کی خوشبو چھید رہی ہے آنچل کو

    کیسے پھول وہ ڈال گیا ہے جھولی میں

    جس نے مہر و ماہ کے کھاتے لکھنے ہوں

    میں اک ذرہ کب تک اس کی گنتی میں

    عشق حساب چکانا چاہا تھا ہم نے

    ساری عمر سما گئی ایک کٹوتی میں

    حرف زیست کو موت کی دیمک چاٹ بھی لے

    کب سے ہوں محصور بدن کی گھاٹی میں

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 02.05.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY