اک جنوں کہیے اسے جو مرے سر سے نکلا

علیم مسرور

اک جنوں کہیے اسے جو مرے سر سے نکلا

علیم مسرور

MORE BYعلیم مسرور

    اک جنوں کہیے اسے جو مرے سر سے نکلا

    ورنہ مطلب نہ کوئی عرض ہنر سے نکلا

    کوئی منزل نہ ملی پانو جو گھر سے نکلا

    پھر سفر پیش تھا جب گرد سفر سے نکلا

    بچ کے ہر چند زمانے کی نظر سے نکلا

    سامنے کوئے ملامت تھا جدھر سے نکلا

    میں بہت دور کہیں چھوڑ چکا تھا اس کو

    قافلہ پھر مری حسرت کا کدھر سے نکلا

    اٹھ کے اس بزم سے آ جانا کچھ آسان نہ تھا

    ایک دیوار سے نکلا ہوں جو در سے نکلا

    مے کدہ دیکھا تو یاد غم یاراں آئی

    جام چھلکا تو لہو زخم جگر سے نکلا

    بھیڑ کے خوف سے پھر گھر کی طرف لوٹ آیا

    گھر سے جب شہر میں تنہائی کے ڈر سے نکلا

    پڑ گیا وقت تو صدیوں کے بھرم ٹوٹ گئے

    کام کچھ شام سے نکلا نہ سحر سے نکلا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY