اک صحیفہ نیا اترا ہے سنا ہے لوگو

رضیہ فصیح احمد

اک صحیفہ نیا اترا ہے سنا ہے لوگو

رضیہ فصیح احمد

MORE BYرضیہ فصیح احمد

    اک صحیفہ نیا اترا ہے سنا ہے لوگو

    مارنا دوست کا بھی جس میں روا ہے لوگو

    ہم نے جو کچھ نہ کیا اس کی سزا بھی پائی

    اور وہ جو بھی کرے سب ہی روا ہے لوگو

    ظلم کی حد ہے جہاں ختم وہاں پر وہ ہے

    ڈھونڈ لو اس کو یہی اس کا پتا ہے لوگو

    دل میں اک شعلۂ امید تھا سو سرد ہوا

    چاند ماتھے کا مرے کب کا بجھا ہے لوگو

    جس کو تم کہتے ہو خوش بخت سدا ہے مظلوم

    جینا ہر دور میں عورت کا خطا ہے لوگو

    دیکھیے زخم کا کیا حال ہوا ہے رضیہؔ

    آج تو درد مرا حد سے سوا ہے لوگو

    مأخذ :
    • کتاب : Urdu Gazal ka Magribi Daricha (Pg. 93)
    • Author : Dr. Jawaz Jafri
    • مطبع : Kitab Saray, Lahore (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY