اک طبیعت تھی سو وہ بھی لاابالی ہو گئی

اقبال ساجد

اک طبیعت تھی سو وہ بھی لاابالی ہو گئی

اقبال ساجد

MORE BYاقبال ساجد

    اک طبیعت تھی سو وہ بھی لاابالی ہو گئی

    ہائے یہ تصویر بھی رنگوں سے خالی ہو گئی

    پڑھتے پڑھتے تھک گئے سب لوگ تحریریں مری

    لکھتے لکھتے شہر کی دیوار کالی ہو گئی

    باغ کا سب سے بڑا جو پیڑ تھا وہ جھک گیا

    پھل لگے اتنے کہ بوجھل ڈالی ڈالی ہو گئی

    اب تو دروازے سے اپنے نام کی تختی اتار

    لفظ ننگے ہو گئے شہرت بھی گالی ہو گئی

    کھینچ ڈالا آنکھ نے سب آسمانوں پر حصار

    بن چکے جب دائرے پرکار خالی ہو گئی

    صبح کو دیکھا تو ساجدؔ دل کے اندر کچھ نہ تھا

    یاد کی بستی بھی راتوں رات خالی ہو گئی

    مأخذ :
    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 139)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY