ارتکاب جرم شر کی بات ہے

حیدر علی جعفری

ارتکاب جرم شر کی بات ہے

حیدر علی جعفری

MORE BY حیدر علی جعفری

    ارتکاب جرم شر کی بات ہے

    اور بری ہونا ہنر کی بات ہے

    اک کہانی ہے کہ صدیوں پر محیط

    سوچنے میں دوپہر کی بات ہے

    آئے ٹھہرے اور روانہ ہو گئے

    زندگی کیا ہے، سفر کی بات ہے

    ایک شعلہ سا لپک کر رہ گیا

    یہ حیات مختصر کی بات ہے

    ناصحا گر ہو سکے منزل پہ مل

    زندگی تو رہگزر کی بات ہے

    شادی و غم پر کریں کیا تبصرہ

    تیرے میرے سب کے گھر کی بات ہے

    راستے تو ہیں مگر منزل نہیں

    کیا ہمارے راہ بر کی بات ہے

    اب تو دوکانوں پہ بکتی ہے وفا

    دوستو افراط زر کی بات ہے

    بال و پر ہوتے تو کیوں ہوتے اسیر

    قید میں کیوں بال و پر کی بات ہے

    مطمئن کوئی نہیں حالات سے

    شام کے لب پر سحر کی بات ہے

    ہر قوی کو ہے وہاں جانے کا حق

    دشت کی اور بحر و بر کی بات ہے

    مردنی زائل ہو یا باقی رہے

    یہ ترے حسن نظر کی بات ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY